روزانہ واک کرنے کے 10 فائدے، کتنی دیر چلنا مفید ہے؟

اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں آسان اور کم خرچ جسمانی سرگرمی شامل کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ واک کے فوائد جاننا آپ کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ روزانہ واک جسم کو متحرک رکھنے، جسمانی فٹنس بہتر بنانے اور مجموعی صحت کا خیال رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر آپ باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی جاری رکھ سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل، جسم اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ تیز واک (Brisk Walking) معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی کی ایک مثال ہے۔ بالغ افراد کے لیے ہفتے میں 150 سے 300 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی کی سفارش کی جاتی ہے۔ یہ ہدف صرف واک کے لیے نہیں بلکہ مجموعی معتدل جسمانی سرگرمی کے لیے ہے۔

روزانہ واک کے فوائد: 10 اہم فائدے

1۔ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند

باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور دل کی بیماری اور فالج سمیت بعض قلبی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

تیز واک کو ہفتہ وار جسمانی سرگرمی کے معمول میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

2۔ وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد

واک جسمانی سرگرمی بڑھاتی ہے اور جسم کو زیادہ توانائی استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔

اگر مقصد وزن کم کرنا ہو تو صرف واک پر انحصار کرنا ضروری نہیں کہ کافی ہو۔ کھانے پینے کی عادات، مجموعی کیلوریز اور جسمانی سرگرمی سب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Weight loss ke liye walk ایک مفید جسمانی سرگرمی ہو سکتی ہے، لیکن وزن کم ہونے کی مقدار ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہے۔

3۔ شوگر (Sugar) کے خطرے کو کم کرنے میں مدد

باقاعدہ جسمانی سرگرمی ٹائپ 2 ذیابیطس (Type 2 Diabetes) کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اگر آپ شوگر کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو شوگر کی علامات، وجوہات اور بچاؤ کے طریقے بھی پڑھ سکتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو پہلے سے ذیابیطس ہے تو جسمانی سرگرمی مجموعی صحت اور خون میں شوگر کے انتظام میں مددگار ہو سکتی ہے، لیکن ورزش کی مناسب مقدار فرد کی صحت اور علاج کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

4۔ بلڈ پریشر کے لیے مفید

باقاعدہ جسمانی سرگرمی بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے میں مدد کر سکتی ہے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے سے وابستہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ واک بلڈ پریشر کی دوا کا متبادل ہے۔ اگر کسی شخص کو ہائی بلڈ پریشر ہے تو اسے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق علاج جاری رکھنا چاہیے۔

5۔ ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی میں مدد

جسمانی سرگرمی ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی بے چینی اور ڈپریشن کی علامات میں کمی اور مجموعی ذہنی کیفیت بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔

اسی وجہ سے walk for mental health بھی روزمرہ جسمانی سرگرمی کے ایک مفید حصے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

6۔ نیند بہتر بنانے میں مدد

باقاعدہ جسمانی سرگرمی نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔ CDC کے مطابق معتدل سے زیادہ شدت والی جسمانی سرگرمی کا ایک سیشن بھی نیند کے معیار کو بہتر بنانے، بے چینی کم کرنے اور بلڈ پریشر کو عارضی طور پر کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اگر رات کے وقت تیز واک یا ورزش کرنے سے آپ کی نیند متاثر ہوتی ہو تو واک کا وقت پہلے کر لینا بہتر ہو سکتا ہے۔

7۔ ہڈیوں اور جسمانی طاقت کے لیے فائدہ مند

باقاعدہ جسمانی سرگرمی ہڈیوں کی صحت اور جسمانی کارکردگی کے لیے فائدہ مند ہے۔ واک جسم کو متحرک رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔

البتہ صرف واک کو مکمل پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزش نہیں سمجھنا چاہیے۔ WHO بالغ افراد کو ایروبک سرگرمی کے ساتھ ہفتے میں کم از کم دو دن بڑے پٹھوں کو مضبوط بنانے والی سرگرمیاں کرنے کی بھی سفارش کرتا ہے۔

8۔ جسمانی فٹنس اور برداشت بہتر کرنے میں مدد

باقاعدہ تیز واک جسمانی برداشت اور دل و پھیپھڑوں کی فٹنس بہتر کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

اگر آپ ابھی زیادہ فعال نہیں ہیں تو بہت زیادہ دورانیے یا رفتار سے شروع کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ واک کا وقت اور رفتار بڑھانا بہتر ہے۔

9۔ ذہنی صحت اور سوچنے کی صلاحیت کے لیے فائدہ مند

باقاعدہ جسمانی سرگرمی دماغی اور ذہنی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ جسمانی سرگرمی ذہنی کیفیت، سوچنے کی صلاحیت اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات سے وابستہ ہے۔

اس لیے Daily Walking کو صرف وزن کم کرنے کی سرگرمی سمجھنا درست نہیں؛ اس کے جسم اور ذہن دونوں کے لیے فوائد ہو سکتے ہیں۔

10۔ بڑی عمر میں جسمانی فعالیت برقرار رکھنے میں مدد

باقاعدہ جسمانی سرگرمی عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی فعالیت برقرار رکھنے میں مدد کر سکتی ہے اور بڑی عمر کے افراد میں گرنے کے خطرے کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔

65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد، خاص طور پر جنہیں چلنے پھرنے میں مشکلات ہوں، ان کے لیے WHO توازن بہتر بنانے والی جسمانی سرگرمیوں کو بھی اہم قرار دیتا ہے۔

روزانہ کتنی دیر واک کرنی چاہیے؟

یہ سوال بہت عام ہے: کتنی دیر واک کرنی چاہیے؟ (Kitni der walk karni chahiye)

بالغ افراد کے لیے WHO کی موجودہ سفارش کے مطابق ہفتے میں:

  • کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی
  • اضافی صحت کے فوائد کے لیے 300 منٹ تک معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی
  • ہفتے میں کم از کم 2 دن پٹھوں کو مضبوط بنانے والی سرگرمی کی جا سکتی ہے۔

مثلاً 150 منٹ کو ہفتے کے پانچ دنوں میں تقسیم کریں تو تقریباً 30 منٹ روزانہ بنتے ہیں۔

لیکن 30 منٹ ایک ہی وقت میں مکمل کرنا ضروری نہیں۔ جسمانی سرگرمی کو ہفتے کے دوران مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ رہنمائی کے مطابق مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی مجموعی جسمانی سرگرمی میں شمار ہوتی ہے، اور کچھ جسمانی سرگرمی کرنا بالکل نہ کرنے سے بہتر ہے۔

واک کتنی تیز ہونی چاہیے؟

صحت کے لیے واک کرتے وقت صرف قدموں کی تعداد نہیں بلکہ رفتار اور شدت بھی اہم ہوتی ہے۔

NHS کے مطابق تیز واک (Brisk Walk) ایسی رفتار ہے جس میں آپ بات کر سکتے ہیں لیکن گانے کے الفاظ مسلسل نہیں گا سکتے۔ تقریباً 3 میل فی گھنٹہ کی رفتار ایک عمومی مثال ہے، لیکن ہر شخص کی جسمانی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔

اگر آپ ابھی واک شروع کر رہے ہیں تو اپنی موجودہ جسمانی حالت کے مطابق آہستہ شروع کریں اور وقت کے ساتھ رفتار یا دورانیہ بڑھائیں۔

واک کرنے کا بہترین وقت کون سا ہے؟

واک کرنے کے لیے کوئی ایک مقررہ بہترین وقت ثابت نہیں ہے۔

American Heart Association کے مطابق ورزش کے لیے وہ وقت زیادہ اہم ہے جس پر آپ اسے مستقل طور پر جاری رکھ سکیں۔ صبح، شام یا دن کے کسی دوسرے مناسب وقت پر واک کی جا سکتی ہے۔

صبح کی واک

اگر موسم مناسب ہو اور صبح کا وقت آپ کے معمول کے مطابق ہو تو صبح واک کرنا ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔

شام کی واک

اگر صبح وقت نہیں ملتا تو شام کو واک کرنا بھی مناسب ہے۔ اصل مقصد باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی کرنا ہے۔

گرمی میں واک کا وقت

پاکستان جیسے گرم موسم والے علاقوں میں شدید گرمی کے دوران باہر تیز واک کرنا مشکل اور بعض افراد کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے موسم میں نسبتاً ٹھنڈے وقت، مثلاً صبح یا شام، واک کرنا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔

گرمی اور نمی زیادہ ہو تو پانی کی کمی اور گرمی سے متعلق بیماریوں سے بچنے کے لیے احتیاط بھی ضروری ہے۔

کھانے کے بعد واک

کھانے کے بعد ہلکی یا مناسب رفتار سے مختصر واک روزمرہ جسمانی سرگرمی کا حصہ بن سکتی ہے۔ American Heart Association بھی مختصر واک کو دن کے مختلف اوقات میں شامل کرنے کی مثال دیتا ہے، جن میں کھانے کے بعد کی واک بھی شامل ہے۔

البتہ کھانے کے فوراً بعد بہت تیز یا سخت ورزش کرنے سے گریز کرنا بہتر ہے۔

کیا روزانہ 10,000 قدم چلنا ضروری ہے؟

نہیں۔ صحت مند رہنے کے لیے ہر شخص کے لیے 10,000 قدم روزانہ کی کوئی عالمی لازمی شرط نہیں ہے۔

صحت کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کے مطابق باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی کریں اور مجموعی طور پر مناسب مقدار میں متحرک رہیں۔

اگر آپ ابھی واک شروع کر رہے ہیں تو صرف قدموں کی ایک خاص تعداد پوری کرنے کے بجائے مستقل مزاجی پر توجہ دیں۔

واک شروع کرنے کا آسان طریقہ

اگر آپ پہلے سے زیادہ جسمانی سرگرمی نہیں کرتے تو یہ آسان طریقہ اختیار کر سکتے ہیں:

  1. اپنی موجودہ جسمانی حالت کے مطابق مختصر واک سے آغاز کریں۔
  2. ابتدائی دنوں میں رفتار بہت زیادہ تیز نہ رکھیں۔
  3. جسم عادی ہونے کے بعد آہستہ آہستہ دورانیہ یا رفتار بڑھائیں۔
  4. کوشش کریں کہ ہفتے کے زیادہ دن جسمانی سرگرمی کا معمول برقرار رہے۔
  5. آرام دہ اور مناسب جوتے پہنیں۔
  6. گرم موسم میں نسبتاً ٹھنڈے وقت واک کریں۔
  7. اگر ممکن ہو تو واک کے ساتھ ہفتے میں دو دن پٹھوں کو مضبوط بنانے والی سرگرمی بھی شامل کریں۔

کن لوگوں کو واک میں احتیاط کرنی چاہیے؟

زیادہ تر لوگوں کے لیے مناسب جسمانی سرگرمی فائدہ مند ہے، لیکن اگر آپ کو پہلے سے کوئی دائمی بیماری، دل کا مسئلہ، شدید جوڑوں کا مسئلہ یا ایسی طبی حالت ہے جس میں ورزش محدود کرنے کا مشورہ دیا گیا ہو تو اپنے ڈاکٹر یا صحت کے ماہر سے مناسب جسمانی سرگرمی کے بارے میں مشورہ کریں۔

اگر واک کے دوران سینے میں درد، شدید سانس پھولنا، چکر آنا یا کوئی غیر معمولی شدید علامت پیدا ہو تو ورزش روک دیں اور فوری طبی مدد حاصل کریں۔

خلاصہ

روزانہ واک کے فوائد (Rozana walk ke faide) صرف وزن تک محدود نہیں۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت، بلڈ پریشر، شوگر (Sugar)، جسمانی فٹنس، نیند اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

بالغ افراد کے لیے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی ایک اہم ہدف ہے، جبکہ اضافی فوائد کے لیے اسے 300 منٹ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ تیز واک اس ہدف کو پورا کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ واک کے لیے کسی ایک “جادوئی” وقت یا قدموں کی مخصوص تعداد کے پیچھے نہ بھاگیں۔ ایسا وقت اور رفتار منتخب کریں جسے آپ اپنی صحت اور روزمرہ زندگی کے مطابق مستقل طور پر جاری رکھ سکیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔